Saturday, 14 January 2012

ایک عبرتناک فیچر

ایک عبرتناک فیچر
کل رات میرے قلب میں اﷲ تعالیٰ نے ایک فیچر عطا فرمایا جس سے دنیاوی حسینوں سے دل اُچاٹ ہو جائے گا اور جب تک ان حسینوں سے دل اُچاٹ نہیں ہوگا آپ ان کی چاٹ سے بچ نہیں سکتے، جو ان حسینوں کی چاٹ سے بچنا چاہے اس کے دل کا ان سے اُچاٹ ہونا ضروری ہے مگر اپنی بیوی سے خوب محبت کرو، عورتیں گھبرائیں نہیں کہ یہ ہم سے بھی دل اُچاٹ کررہا ہے، میں سٹرکوں والیوں سے، بے پردہ غیر عورتوں سے دل اُچاٹ کررہا ہوں، اپنی بیویوں سے خوب محبت کرو کیونکہ ان کے لیے اﷲ تعالیٰ کی سفارش بھی ہے۔
تو اب وہ جغرافیہ سن لو کہ ایک ہزار مربع گز کا پلاٹ ہے اور اس میں تالا لگا دیا گیا کہ کوئی باہر نہیں نکل سکتا اور اس میں چھوٹے چھوٹے خیمے بنے ہوئے ہیں۔ اس پلاٹ میں سو حسین ہیں، پچاس حسین لڑکیاں جو بین الاقوامی طور پر مقابلہ حسن میں اوّل آئیں او رپچاس حسین لڑکے اور سب کے سب اس بلا کے حسین ہیں کہ جن کو دیکھتے ہی اس شعر کو پڑھنا عاشقوں پر لازم ہوجائے
وہ سامنے ہیں نظامِ حواس برہم ہے
نہ آرزو میں سکت ہے نہ عشق میں دم ہے
اور ان کے کھانے پینے کے لیے کباب بریانی تو بہت ہے لیکن قصداً بیت الخلاء(لیٹرین) نہیں بنایا گیا۔ ان کے جغرافیہ کو پیش کرنے کے یہ انتظام کیا گیا تا کہ اﷲ کے بندوں کی تاریخ ضائع نہ ہو، اب خیمے میں ان حسینوں نے خوب بریانی کھائی اور ایک ہزار مربع گز میں چاروں طرف جو تھوڑی زمین خالی تھی سو حسین وہیں ہگ رہے ہیں۔ اب ہر دن ایکسپورٹنگ کا مال بڑھ رہا ہے اور جو عاشق بھی اس ایک ہزار مربع گز پلاٹ پر حسینوں کی زیارت کے لیے آرہا ہے تو کہتا ہے اُف کیا بات ہے، اتنی بدبو کیوں ہے؟ معلوم ہوا کہ ایکسپورٹ آفس نہیں ہے لہٰذا سب حسینوں کے پیٹ کا گو پلاٹ پر ہی اسٹاک ہورہا ہے۔ چند مہینے بعد اتنی بدبو بڑھے گی کہ وہاں کوئی داخل نہیں ہوسکتا۔ دیکھا آپ نے ان کے اندر کیا بھرا ہوا ہے، یہ ہے حسن کا انجام۔
ایک شخص نے حضرت حکیم الامت کو سرمہ دیا اور کہا کہ یہ سرمہ آنکھ کے لیے بہت مفید ہے، حضرت نے فرمایا کہ اس کے اجزاءبتاو میں اپنے خاندانی حکیم سے مشورہ لوں گا کہ اس کے اجزاءمیری آنکھوں کے لیے مفید ہیں یا نہیں۔ اس نے کہا کہ مولانا میں یہ سرمہ مفت میں دے رہا ہوں، پیسہ بھی نہیں لے رہا ہوں پھر اتنے ناز ونخرے کہ میں اجزاءبھی بتاوں۔ حضرت نے فرمایا کہ دیکھ تیر اسرمہ مفت کا ہے میری آنکھیں مفت کی نہیں ہیں لہٰذا حسینوں کو مفت بھی پاو تو کہہ دو کہ تمہارا حسن مفت کا ہے مگر میرا ایمان مفت کا نہیں ہے، مجھے جس نے پیدا کیا ہے اگر وہ ناراض ہوگیا تو ساری دنیا کے حسین میرا بلڈ کینسر اچھا نہیں کر سکتے، میرے گردے کا درد اچھا نہیں کر سکتے اور اگر اﷲ میری ذلت کا ارادہ کرلے تو سارے عالم میں کوئی میرے کام نہیں آسکتا ۔
نافرمانی کا نقطہ آغاز عذابِ الٰہی کا نقطہ آغاز ہے
ایک اہم بات سنئے! آدمی جس وقت اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کا زیروپوائنٹ ،ابتداءاور نقطہ آغاز کرتا ہے اسی وقت اس کے دل پر اﷲ تعالیٰ کے عذاب کا نقطہ آغاز ہوتا ہے، گناہوں کا ماضی اور حال اور استقبال تینوں زمانے بھیانک، لعنتی، خطرناک، پریشان کن اور رسوا کنندہ ہیں۔ اسی لیے حسینوں کو ہینڈل کر نے کی کوشش مت کرو ورنہ کھوپڑی پر سینڈل پڑیں گے اور پھر اسکینڈل بنے گا، ہر وقت اس کا تذکرہ برائیوں کے ساتھ ہوگا کہ شکل دیکھو تو بایزید بسطامی بھی رشک کرے اور حرکتیں دیکھو تو شیطان شرماجائے، لہٰذا اگر چین سے رہنا ہے تو اﷲ تعالیٰ کی یاد میں رہو۔

دین سے دوری …….. عقل سے محرومی

دین سے دوری …….. عقل سے محرومی
آج کل ہر وقت، ہر جگہ، ہر سڑک، ہر اسٹیشن پر عریانی اتنی بڑھ گئی ہے اور بے پردگی ایسا فیشن میں داخل ہوگئی ہے کہ اب مسلمان خواتین کو بھی بے پردگی سے شرم نہیں آتی۔ جب میں ناظم آباد میں تھا تو ایک بڑھیا جس کے منہ میں دانت نہیں تھے لیکن پیٹ میں آنت تھی وہ خود تو پورے برقع میں تھی لیکن اس کی اٹھارہ بیس سال کی لڑکی بالکل بے پردہ تھی۔ میںنے کہا کہ بڑی بی تم تو بڈھی ہو تم کو کون دیکھے گا، تمہارے منہ میںد انت نہیں، گال چپٹے ہورہے ہیں لیکن جس کو پردہ کرنا چاہیے اس کو تم نے بے پردہ کررکھا ہے۔ کیا کہیں عقل کھوپڑی سے غائب ہوگئی ہے، عقل بھی بزرگوں کی صحبت سے ملتی ہے
نہ کتابوں سے نہ وعظوں سے نہ زر سے پیدا
دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا
آپ خود بتائیں کہ جوان لڑکی کو پردے کی ضرورت ہے یا بڑھیا کھوسٹ کو جس کے گیارہ نمبر کا چشمہ لگا ہوا ہے، گال پچکے ہوئے ہیں، منہ میں دانت بھی نہیں ہیں، اس کو کون دیکھے گا؟ جس کو کوئی نہ دیکھے وہ تو پردے میں ہے اور جس کوسب دیکھیں وہ بے پردہ ہے، کیا حماقت کی بات ہے۔ بتائیے! جس کی جیب میں ایک پیسہ نہیں ہے وہ تو زپ (Zip)لگائے ہوئے ہے اور جیب پر ہاتھ بھی رکھے ہوئے ہے اور جس کی جیب میں نوٹوں کی گڈیاں ہیں وہ ململ کے باریک کرتے کی جیب سے اپنے نوٹوں کی نمائش کررہا ہے کہ اے جیب کترو! اے ڈاکوو! دیکھ لو یہ ہے مال۔
مولانا شاہ ابرار الحق صاحب فرماتے ہیں کہ تم آدھا کلو گوشت لے کر چلتے ہو تو تھیلے میں اندر رکھتے ہو تاکہ چیل اس کو اُڑا نہ لے جائے، گھر میں آدھا کلو دودھ رکھتے ہو تو ڈھک کے رکھتے ہو کہ بلی نہ پی جائے اور روٹیاں رکھتے ہو تو ڈھک کے رکھتے ہو کہ چوہے نہ کتر لیں۔ تو چوہوں سے روٹیوں کی حفاظت ضروری، بلی سے دودھ کی حفاظت ضروری، چیلوں سے گوشت کی حفاظت ضروری اور جیب کتروں سے نوٹوں کی حفاظت ضروری ہے تو کیا جوان بیٹیوں اور جوان بہووں کی حفاظت ضروری نہیں ہے؟
ناظم آباد کے ایک کالج کے باشرع پرنسپل نے بتایا کہ ایک لڑکی تین دن سے اپنے گھر نہیں گئی، ایک دن اس کے ابا نے آکرمجھ سے پوچھا کہ وہ پڑھنے آتی ہے؟ رجسٹر میں اس کی حاضری ہے یا نہیں؟ میں نے کہا کہ ہاں صاحب ہر روز آتی ہے، پورے وقت پڑھتی ہے لیکن شام کو گھر نہیں جاتی، اپنے کسی کلاس فیلو کے یہاں جاتی ہے تو ابا جان کہتے ہیں کہ نوپرابلم(No Problem) پڑھتی تو ہے نا، بس ٹھیک ہے، پڑھنے کے بعد، تعلیم کے ٹائم کے علاوہ جہاں چاہے جائے مجھے کوئی غم نہیں، بس تعلیم میں نقصان نہ ہو۔ یہ ہے بابا جان کی غیرت اور ابا جان کی حیا و شرم کا جنازہ دفن ہونے کا قبرستان۔
جو شخص اﷲ سے جتنا دور ہوگا اتنا ہی عقل سے محروم ہوگا کیونکہ عقل کا خالق اﷲ ہے جو اس مالک کو راضی کو رکھتا ہے تو اس کے دماغ میں جو عقل ہے اس کا کنکشن اور رابطہ خالقِ عقل سے رہتا ہے اور جو خدا کو بھولے ہوئے ہیں ان کی کھوپڑی عقل سے محروم ہے۔ لہٰذا دیکھ لو جتنی بڈھیاں ہیں وہ خود تو برقع میں ہیں اور اپنی جوان بیٹیوں کی نمائش کر تی ہوئی لے جارہی ہیں۔ اﷲ تعالیٰ عقلِ سلیم عطا فرمائے۔ مشکوٰة شریف کی حدیث ہے، سرو رِ عالم صلی ا ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو لڑکیاں اور عورتیں بے پردہ نکلتی ہیں ان پر بھی اﷲ کی لعنت ہے:لَعَنَ اﷲُ النَّاظِرَ وَالمَنظُورَ اِلَیہِ (مشکوٰة المصابیح، کتاب النکاح)
اﷲ لعنت کرے اس پر جو (حرام کو مثلاً نامحرم لڑکی یا مرد کو ) دیکھتا ہے اور جو اپنے کو دِکھاتا ہے یا دِکھاتی ہے یعنی منظور اور منظورات دونوں پر لعنت برستی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو تو مار رہا ہے اوردوسری عورتوں سے دل لگا رہا ہے۔ یاد رکھو! اﷲکی نافرمانی کے ساتھ چین کا تصور کرنے والا بین الاقوامی گدھا ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں: وَمَن اَعرَضَ عَن ذِکرِی فِاِنَّ لَہ مَعِیشَةً ضَنکاً (سورة طٰہ،آیت: ۴۲۱)
جو میری نافرمانی کرتا ہے اس کی زندگی تلخ کردی جاتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ اس حقیقت پر ایمان لانے کی توفیق دے اور مالک کو ناراض کر کے حرام لذتوں کی چوریوں اور کمینے پن سے ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
ابھی جو میر صاحب نے پڑھ کے سنایا کہ اﷲ کے راستے میں، گناہ سے بچنے میں یعنی اﷲ کی نافرمانی سے اپنے کو بچانے میں مثلاً بے پردہ عورتوں سے نظر بچانے وغیرہ جتنے بھی احکامِ شریعت ہیں انہیں بجا لانے میں اگر ایک ذرّہ غم دل کو پہنچ جائے تو سارے عالم کی خوشیوں سے اﷲ کے راستے کا وہ ذرّہ غم اعلیٰ ہے
دامنِ فقر میں مرے پنہاں ہے تاجِ قیصری
ذرّہ درد و غم ترا دونوں جہاں سے کم نہیں
اگر اﷲ کے راستے میں ایک کانٹا چبھ جائے تو وہ سارے عالم کے پھولوں سے افضل ہے، اﷲ کے راستے کا ایک ذرّہ غم سارے عالم کی خوشیوں سے افضل ہے۔
تو میرے دوستو اور عزیزو! آج اﷲ کی دوستی کا فقدان، اولیاءاﷲ کی کمی کا سبب اﷲ کی نافرمانی ہے، آج عبادات میں کمی نہیں ہے، آپ جا کے حرمین شریفین میں دیکھئے، آج سے چالیس پچاس سال پہلے اتنی تعداد نہیں تھی، آج دونوں حرم بھرے ہوئے ہیں، آج حج و عمرہ کرنے والوں کی تعداد جتنی ہے پہلے اتنی نہیںتھی، آج نفلی عبادات کی کمی نہیں ہے، اگر کمی ہے تو گناہوں سے بچنے کی کمی ہے اور اﷲ تعالیٰ نے اپنی دوستی کی بنیاد کثرتِ عبادت پر نہیں گناہوں سے بچنے میں رکھی ہے کہ جو گناہوں سے بچے گا، مجھ کو ناراض نہیں کرے گا وہ میرا دوست ہوگا۔
ولی اﷲ بننا بہت آسان ہے
اور گناہوں سے بچنا اصل میں کام نہ کرنا ہے، بتائیے! کام نہ کرنا مشکل ہے یا کام کرنا مشکل ہے؟ مالک کا کرم دیکھو کہ کام نہ کرنے پر اپنی ولایت کا تاج عطا فرما رہے ہیں یعنی کوئی نامناسب کام مت کرو، کام نہ کر کے میرے ولی بن جاو، اتنا سستا نسخہ اور کہاں ملے گا؟ دنیا کے لوگ تو کہتے ہیں کہ پاپڑ بیلنے پڑیں گے، اتنے کا م کرنے پڑیں گے تب میں دوست بناوں گا اور اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ بس تم نامناسب کام نہ کرو جو تمہارے لیے مضر بھی ہے اور ذلت وخواری کا سبب بھی ہے، تم اپنے کو رُسوا مت کرو، اپنی آبرو کو ذلیل مت کرو، اچھے کام تو کرو مگر برے کام سے بچو، میں تمہیں اپنا دوست بنالوںگا۔
بس تقویٰ کی بنیاد پر ہماری دوستی ہے لیکن لوگ آج کل اُس کو ولی اﷲ سمجھتے ہیں جو رات بھر سوتا نہ ہو خواہ دن بھر کوئی عورت چھوڑتا نہ ہو۔ اگر اس کی کپڑے کی دکان ہے تو جو گاہک آتی ہے اس کو سرمہ لگا کر غور سے دیکھتا ہے، کم عمر کو بیٹی، کچھ زیادہ عمر کی ہو تو آپا اور بڑھیا کو خالہ اماں، ہر ایک کے لیے اس نے لقب تیار کر رکھا ہے۔ میںنے جامع کلاتھ مارکیٹ میں یہ الفاظ اپنے کانوں سے سنے، یہ آج سے تیس چالیس سال پہلے کی بات ہے، الحمد ﷲ اب تو شہر جانا ہی نہیں ہوتا سارے کام اﷲ کی رحمت سے یہیں ہوجاتے ہیں۔ تو جو رات بھر سوتا نہیں ہے مگر دن بھر گناہوں کو چھوڑتا نہیں ہے تو بتائیے کیا یہ ”کھوتا“ نہیں ہے؟ کھوتا کے کئی معنیٰ ہیں ایک یوپی والے معنیٰ کہ زندگی کھوتا ہے یعنی ضایع کرتا ہے اور ایک یہاں کراچی کی خاص زبان میں گدھے کو کھوتا کہتے ہیں۔
تو اﷲ تعالیٰ نے اپنا راستہ بہت آسان رکھا ہے اور اس راستے میں بہت چین ہے، گناہ سے بچنے میں انتہائی سکون، نہایت عزت ہے اور بڑی مزیدار میٹھی نیند آتی ہے کیونکہ دل ایک ہی ہے اور مولیٰ بھی ایک ہی ہے، ایک مولیٰ پر دل دینا آسان ہے اور لیلاوں کی تعداد بے شمار ہے، انہیں دیکھ کر ہر وقت کاش کاش کر و گے کہ کاش یہ میری بیوی ہوتی اور کاش کاش سے دل پاش پاش ہوتا رہے گا
اک حسیں ہوتو دل اسے دے دوں
سخت مشکل ہے ان ہزاروں میں
دل کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے۔ اﷲ تعالیٰ کا احسان ہے جس نے ہمارے قلب کو بے سکونی سے بچانے کے لیے غیرتِ جمالِ خدا وندی کے طور پر بدنظری کو حرام فرمایا کہ مجھ سے بھی محبت کرتے ہو اور غیروں کو بھی دیکھتے ہو، شرم نہیں آتی!

Monday, 9 January 2012

بجلی کیوں نہیں آتی؟ کچھ حقائق،کچھ کڑوے سچ !


بجلی کیوں نہیں آتی؟ کچھ حقائق،کچھ کڑوے سچ  !  
کراچی ائیر پورٹ کے قریبی علاقے بھٹائی آباد سمیت بہت سی آبادیاں مثلاََ بختاور گوٹھ،دھنی بخش گوٹھ،ایوب گوٹھ،رمضان گوٹھ،رشیدی گوٹھ،مغل ہزار گوٹھ،شاہنواز شر گوٹھ اور پہلوان گوٹھ بجلی چوری میں مثالی حیثیت رکھتی ہیں۔یہاں کے باشندے کھلم کھلا کنڈے لگا کر بجلی چوری کرتے ہیں،باقاعدہ کنکشن لگانے کی ہر کوشش کو جبری طور پر ناکام بنا دیتے ہیں،مسلسل نوٹس بھیجے جانے کے باوجود میٹر لگا کر بجلی کو قانونی طور پر استعمال کرنے اور بل دینے پر تیار نہیں ہوتے۔یہاں تک کہ جب ان کی چوری کے نتیجے میں بجلی کا پورا نظام درہم برہم ہوتا ہے ،پی ایم ٹی بار بار اڑتی ہے،کنڈے ٹوٹ کر راہگیروں کی جان کے لئے خطرہ بنتے ہیں تو 
 پھر مجبوراََ ٰیہاں بجلی کی فراہمی بند کردی جاتی ہے

پھر یہی بجلی چور،مظلوم صارفین کا روپ دھار کر سڑکوں پر مظاہرہ 
کرنے لگتے ہیں اور میڈیاکے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ گویا ان سے زیادتی کی گئی ہے۔یہی نہیں بلکہ اپنا جرم چھپانے کے لئے سیاسی وابستگیوں کی آڑ لیتے ہیں،بجلی چوری کے جرم کو سیاسی الزام قرار دے کرجماعتوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں ،بجلی کمپنی کے دفاتر پر حملے کرتے ہیں اور دبائو ڈالتے ہیں۔جب انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ آپ کا تو باقاعدہ کنکشن ہی نہیں ہے،میٹر ہی نہیں ہے،آپ تو بجلی چوری کر رہے ہیں،آپ کون سے کنکشن کی بحالی کا مطالبہ لے کر آئے ہیں،آپ کو چاہئے کہ آپ میٹر کی درخواست دے کرکنکشن کے اخراجات کی ادائیگی کریں اور قانونی طور پر بل دے کر بجلی استعمال کریں تو 
پھر یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان سے ناجائز رقم طلب کی جارہی ہے۔
معاشرے کی اخلاقی زبوں حالی کی یہ ایک مثال ہماری آنکھیں ھولنے
کے لئے کافی ہونی چاہئے۔چور نہ صرف کھلم کھلا چوری کرتے ہیں بلکہ کمال ڈھٹائی سے مظلوم بن کر سڑکوں پر نکلنے لگے ہیں ۔چوری کسی بھی چیز کی ہو انتہائی غیر اخلاقی اور غیر قانونی فعل ہے لیکن کسی ایک شخص کے مال کی چوری صرف اس ایک شخص کو متاثر کرتی ہے جبکہ بجلی کی چوری نہ صرف بجلی کمپنی کے لئے مالی نقصان اور انتظامی مسائل پیدا کرتی ہے بلکہ ایمانداری سے بل دینے والے اور قانونی طور پر بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو بجلی کی فراہمی سے بھی محروم کر دیتی ہے گویا کہ بجلی چوری کرنے کے عادی یہ افراد اپنی ناعاقبت اندیشی اور جرم پسندی کی ضد میں نہ صرف بجلی کمپنی کو بلکہ کراچی کے تمام شہریوں کو پریشانی اور اذیت میں مبتلا کر رہے ہیںاور لوڈ شیڈنگ کا سبب بن رہے ہیں۔یقیناََ بجلی کی چوری میںکے ای ایس سی کے اندر کی کچھ کالی بھیڑیں بھی شامل ہوں گی لیکن یہ ناعاقبت اندیش غیر قانونی صارف ان کالی بھیڑوں کی نشاندہی کر نے کی بجائے انہیں نہ صرف چھپائے رکھتے ہیں بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔جس سے دو   
کروڑ شہریوں کی حق تلفی ہو رہی ہے۔
لوڈ شیڈنگ کے خلاف باتیں تو کی جاتی ہیں اور بلاشبہ اس سلسلے کو ختم بھی ہونا چاہئے
 مگر ایسے مواقع پر بہت سے ایسے حقائق کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جو لوڈ شیڈنگ کا سبب بنتے ہیں ۔شہر کے بہت سے علاقوں میںکنڈے اور دیگر طریقوں سے بجلی کی چوری نے نہ صرف لوڈ شیڈنگ میں اضافہ کیا ہے بلکہ بجلی چوروں کا بل بھی ان صارفین کو ادا کرنا پڑتا ہے جو بجلی کی چوری نہیں کرتے۔اطلاعات کے مطابق حکومت اسپیشل الیکٹرک سٹی کورٹس قائم کرنے اور بجلی کے چوری کو ناقابل ضمانت جرم میںتبدیل کرنے پر غور کر رہی ہے ۔اس ترمیم پر بہت احتیاط سے کام کرنے کی ضرورت ہے،تاکہ بجلی چوروںکو بچنے کا موقع نہ مل سکے۔کراچی میں بجلی کے شارٹ فال کی مقدار کم وبیش اتنی ہی ہے جتنی مقدار میں بجلی چوری کی جاتی ہے یعنی اگر بجلی کی چوری ختم ہوجائے تو کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے پاس شہر کی کل ضرورت پوری کر نے کے لئے آج بھی پوری بجلی موجود ہے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا سامنا کرنا ہم سب کے لئے بے حد ضروری ہے  ورنہ بجلی پیدا کرنے کے جتنے نئے پلانٹ بھی لگا لئے جائیں،بجلی کی کمی بدستور رہے گی۔
سخت سزائوں،بھاری جرمانوں ،بجلی کے کنکشن کا ناقابل چیلنج مستقل ڈس کنکشن اور بے ایمان صارفین کو بجلی کے کنکشن کے لئے ہمیشہ کے لئے نا اہل قرار دینا ہی بجلی چوری روکنے کا مستقل حل ہے۔بلوں کی عدم ادائیگی کو روکنے کے لئے بھی اسی طرح کے اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ بہت سے صارفین اور اداروں کی طرف کے ای یس سی کے اربوں روپے واجب الادا ہیں اسی وجہ سے اکثر ایندھن کی خریداری میں مشکل پیدا ہوتی ہے جس سے بجلی گھروں کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔اگر یہ سابقہ رقم وصول ہوجائے اور تمام صارف اپنے بل بروقت ادا کرنے لگیں توکے ای ایس سی آسانی سے اپنے بجلی گھروں کو چلانے کے لئے ایندھن کی خریداری کر سکے گی۔سوئی گیس،پی ایس او،واپڈا اور دوسرے اداروں کی واجب الادا رقوم ادا کرے گی۔یہی نہیںبلکہ اس رقم سے بجلی کی تقسیم کے نظام کی ترقی اور صارفین کی شکایات کو بلا تاخیر دور کرنے کے کام میں بہتری لانے جیسے بہت سے مفید کام کئے جاسکتے ہیں۔سب جانتے ہیں کہ کراچی میں بجلی کی تقسیم کا نظام کم وبیش ایک صدی پرانا ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ پھیلائو تو ہوا لیکن ترقی نہیں ہوئی۔پندرہ ہزار کلومیٹر سے زائد طویل تاروں کے ایک وسیع پھیلائو میں کہیںنہ کہیں خلل یا خرابی پیدا ہونا قدرتی امر ہے خصوصاََ جب کہ نصف صدی تک اس کی بہتری کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔لیکن اس نظام کو صحیح کر نے کا موقع نہیں دیا جارہا۔ایک طرف بلوں کی بھاری رقوم نجی اور سرکاری صارفین کی طرف واجب الاداہیں تو دوسری طرف غیر قانونی کنکشن اوربجلی چوری اس نظام کو درہم برہم کئے ہوئے ہیں ۔تیسری طرف بعض نا عاقبت اندیش نقاد یہ فرض کرنا چاہتے ہیں کہ وہ لندن یا پیرس جیسے ترقی یافتہ شہروں میں رہتے ہیں جہاں بجلی کی تقسیم کے نظام میں خرابی آ ہی نہیں سکتی اور جب کہیں کوئی فیڈر ٹرپ ہوتا ہے ،جمپر یا پی ایم ٹی اڑتا ہے یا کوئی اور مقامی فنی خرابی پیدا ہوتی ہے تو اسے بہانہ قرار دے کر تنقید کا شوق پورا کرتے ہیں ۔اگر وہ سچ مچ چاہتے ہیں کہ کراچی کو بجلی کی ترسیل کی حد تک لندن اور پیرس جتنا ترقی یافتہ بنا دیا جائے تب بھی انہیں کے ای ایس سی کے اسی موقف کی حمایت کرنا ہوگی کہ بجلی چوری بند کی جائے اور بل بر وقت ادا کئے جائیں تاکہ ترسیل کا نظام بہتر بنایا جاسکے۔
دو کروڑ کی آبادی کے شہر کراچی میں بجلی کی طلب پورے ملک کی طلب کے دس فیصد سے زائد ہے۔یہاں گھریلو،تجارتی اور سرکاری صارفین ہی نہیں بلکہ صنعتیں،بندرگاہ،دفاعی تنصیبات اور بہت سے دوسرے ایسے ادارے اور دفاتر بھی ہیں جن کی ایک ساتھ موجودگی کسی اور شہر میں نہیں ہے،اور ان کی مخصوص ضروریات انتہائی اہم اور حساس ہیں ۔کسی ایک موقع پر بجلی کی طلب اور رسد کے اعدادوشمار کچھ بھی ہوںلیکن ان اہم اور حساس مقامات پر بجلی کی مسلسل فراہمی نہایت ضروری ہے ورنہ ملکی مفادات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتاہے چنانچہ ان کنکشنوں کو لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ رکھا جاتا ہے ۔ اب ستم ملاحظہ کیجئے کہ نقاد حضرات ان سپلائی لائنوں کو وی آئی پی فیڈر قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔دوسری طرف اس شہر کی آبادی،آباد کاری اور پھیلائو میں جس رفتار سے اضافہ ہوا ہے اور اب بھی ہو رہاہے،ا س کی نظیر باقی ملک میں نہیں ملتی۔ایسے شہر کو توانائی کی فراہمی کے اعتبارسے اولین ترجیح کی ضرورت رہی ہے،اب بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گی لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ کم سے کم دو دہائیوں میں ،یعنی2005ء میں کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کی نج کاری سے پہلے کے بیس برسوں میں بجلی کی پیداوار بڑھانے کی طرف سرے سے کوئی پیش رفت ہی نہیں ہوئی یعنی صارفین کی تعداد روز بروز بڑھتی گئی لیکن بجلی کی پیداوار اتنی کی اتنی رہی۔ سرکاری ملکیت کے دنوں میں بجلی کی کمی کا محض یہ حل نکالا گیا کہ واپڈا سے باقی ملک کے لئے پیداکی جانے والی بجلی کا کچھ حصہ لے کر کراچی کو دے دیا گیا جب کہ باقی ملک میں بجلی کی صورتحال کراچی سے کہیں زیادہ ابتر ہے لیکن اس کے باوجود طویل عرصے تک کی بے عملی اور عدم کارروائی کے نتیجے میں ابھی تک کراچی کو واپڈا کی طرف سے بجلی کی ایک مخصوص مقدار سپلائی کی جاتی ہے ۔اس پر بھی بہت سے نادان دوست اعتراض اٹھاتے ہیں کہ کراچی کے لئے واپڈا سے بجلی کیوں لیتے ہیں۔یہ مہربان اصل حقائق اور پس منظر جاننا ہی نہیں چاہتے کیونکہ اس سے ان کے سوچے سمجھے یکطرفہ موقف کو زک پہنچتی ہے۔
کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی ستمبر2008 سے نئی انتظامیہ کے تحت کام کر رہی ہے۔سرکاری کنٹرول کے زمانے میں بہت سے زمانہ ساز دوست نما دشمنوں نے بجلی کمپنی سے بے تحاشہ ناجائز مفادات حاصل کئے،اپنے دوستوں اور عزیزوں کو میرٹ کے بغیر ملازمتیں دلوائیں،لاکھوں کروڑوں کے بل معاف کروائے،بجلی چوری کا ایک پورا نظام قائم کر دیا گیا،نقصان بڑھتا گیا اور اربوں روپے سالانہ تک پہنچ گیا،آخر کار شدید مالی نقصان کے پیش نظر اس کمپنی کی نجکاری کا فیصلہ کر لیا گیا۔اس وقت17 ہزار سے زائد کارکن اس سے وابستہ ہیں۔کسی بھی پرائیویٹ ادارے کو چلانے کے لئے یہ فیصلہ کر نا کہ کون کیا کام کرے گا اور اسے کیا تنخواہ دی جائے گی،صرف اور صرف انتظامیہ کا ہی کام ہے۔کبھی کسی نے کاریں،موبائل فون،کمپیوٹر بنانے والی کمپنیوں یا کسی بھی دوسری پرائیویٹ کمپنی کے اعلیٰ یا عام درجے کے اہلکاروں کی تنخواہوں اور الائونس کا ذکر نہیں کیا لیکن یہ ایک انوکھا منظر ہے کہ بعض لوگ کے ای ایس سی کے اہلکاروں کی تنخواہوںپر بحث کرتے رہے ہیں ۔موجودہ انتظامیہ کے آنے کے بعد بہت سے پروفیشنل منیجرز کو شامل کیا گیا تاکہ اسے بہترین خدمات فراہم کرنے والے ادارے میں تبدیل کیا جاسکے لیکن بعض مہربان ان کی کار کردگی دیکھنے کی بجائے اس بحث میں مصروف ہیں کہ کون کس خاندان سے ہے،اس کے  بزرگوں یا رشتے داروں کا کس سیاسی جماعت سے کیا تعلق ہے وغیرہ وغیرہ۔کیا کوئی ایساقانون ہے کہ کسی سیاسی عہدیدار کے اہل خانہ کو کہیں ملازمت نہ دی جائے یا ملازمت کی تمام شرائط پر پورا اترنے کے بعد کسی امیدوار سے یہ پوچھا جائے کہ آیا اس کے خاندان کا کوئی فرد کسی سیاسی جماعت کی حمایت تو نہیں کرتا۔جب تمام شہری انتخابات میں کسی نہ کسی جماعت کو ووٹ ڈالیں گے تو ان کی حمایت بھی کریں گے ۔کیا یہ حمایت انہیں اپنے تمام دوسرے حقوق اور ملازمت حاصل کرنے کے حق سے محروم کر دے گی۔؟
کراچی شاید ملک کا واحد شہر ہے جہاں پرائیویٹ انتظام کے تحت بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کی تعدادمیں تیزی سے اضافہ کیا گیا ہے ۔یہ پلانٹ خود بخود نہیں چلتے بلکہ کسی بھی دوسرے انجن کی طرح انہیں چلانے کے لئے بھی ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے مگر ہوا یہ ہے کہ جونہی کے ای ایس سی نے پلانٹس کی تنصیب کے انتظامات مکمل کئے،تو اس کے ساتھ ہی یہاں ایندھن یعنی قدرتی گیس کی فراہمی میں کمی کا مصنوعی مسئلہ پیدا کر دیا گیا ۔پچھلے کم از کم دو برسوں سے کراچی کے بجلی گھر محض ایندھن کی کمی کے باعث اپنی مکمل پیداوار نہیں دے پا رہے۔2008 میں نئی انتظامیہ کے آنے کے بعد حکومت نے بجلی گھر چلانے کے لئے276 میٹرک ملین مکعب فٹ قدرتی گیس کی باقاعدہ اور بلا تعطل فراہمی کی منظوری دی تھی۔کراچی میں بجلی کی مجموعی رسد عمومی طور پر دو ہزار تین سو پچاس میگا واٹ ہے۔اس میں 55فیصد یعنی 1400میگا واٹ کے ای ایس سی اپنے سسٹم سے پیدا کرتیہے جبکہ ضروریات کا45فیصد واپڈا اور پرائیویٹ بجلی گھروں سے حاصل کیا جاتا ہے۔بجلی کی طلب گرمیوں میں2500 میگا واٹ تک پہنچ جاتی ہے اس طرح شارٹ فال 150
میگا واٹ کا رہتا ہے۔ جو گیس کی فراہمی کے مواقع پر بڑھ کر300 سے400 میگا واٹ تک چلا جاتا ہے،بجلی کی پیداوار میں کمی ہونے پر لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے۔اگر قدرتی گیس ضرورت کے مطابق ملتی رہے تو بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں انتہائی حد تک کمی لائی جاسکتی ہے ۔لیکن ایک طرف ضرورت کے مطابق گیس کی فراہمی کا پورا انتظام نہیں کیا جاتا تو دوسری طرف بعض شیخ چلی قسم کے نقاد حضرات ابھی تک گیس کی کمی کی حقیقت کو تسلیم کرنے سے ہی انکاری ہیں اور ابھی تک وہی راگ الاپ رہے ہیں کہ کے ای ایس سی جان بوجھ کر شہر کی ضروریات کے مطابق بجلی فراہم نہیں کرتی۔گیس کے مصنوعی بحران کے پیچھے چند مفاد پرست اور لالچی حلقوں کا ہاتھ ہے جو کراچی کے دو کروڑ سے زائد شہریوں کا حق یعنی قدرتی گیس چھین کر اسے کھاد کے کارخانوں، سی این جی اسٹیشنوں اور  بعض فیکٹریوںمیںقائم بجلی گھروں کو فروخت کر رہے ہیں ۔
کے ای ایس سی کو قدرتی گیس کی ضرورت کے مطابق فراہمی کایہ فیصلہ2008 میں کیا گیاتھا۔تب سے اب تک وفاقی کابینہ کی کمیٹیبرائے اقتصادی رابطہ نے دوبار اس فیصلے کی توثیق کی ہے، سندھ ہائی کورٹ نے سوئی گیس کمپنی کو براہ راست حکم جاری کیا ہے کہ شہر کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے مقررہ مقدار میں گیس فراہم کی جائے، اور جب تک بجلی گھروں کی ضرورت کے مطابق گیس کی فراہمی باقاعدہ نہ ہو تب تک کسی اور خریدار کو گیس فروخت نہ کی جائے ۔ حتیٰ کہ عدالت عالیہ نے گیس کمپنی کے سربراہ کو توہین عدالت کا نوٹس تک جاری کیا کہ حکم پر عمل در آمد کیوں نہیں کیا جارہا ۔ گیس کمپنی کے اعلیٰ عہدیدار خود میڈیا کے سامنے اس امر کا اعتراف کرچکے ہیں کہ وہ کے ای ایس سی کو مقررہ مقدار میں قدرتی گیس فراہم کرنے سے ناکام رہے ہیںجس کا خمیازہ شہریوں کو لوڈ شیڈنگ کی صورت میں بھگتنا پڑ تا ہے۔لیکن پھر بھی گیس کی فراہمی بحال نہیں کی گئی۔
نئی انتظامیہ کے آنے کے بعد سے بن قاسم میں کے ای ایس سی کے پرانے بجلی گھروں کو اوور ہالنگ کے ذریعے بہتر بنایا گیا ہے جس سے نہ صرف ان کی کارکردگی میں نئی جان پیدا ہوئی ہے بلکہ ان سے ملنے والی بجلی کی پیداوار میں 50   میگا واٹ کا اضافہ بھی ہوا ہے۔ 560  میگا واٹ کا نیا بجلی گھر بن قاسم پاور پلانٹ ۔II   اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے نئی انتظامیہ نے اس پلانٹ کی مشینوں کی خریداری اور تنصیب پر کل 45  کروڑ ڈالر خرچ کئے ہیں جو کہ نجی شعبے میں بجلی گھر کی تعمیر میں اب تک خرچ ہونے والی سب سے بڑی رقم ہے۔ اس پلانٹ کو اگر ضرورت کے مطابق ایندھن یعنی 130  میٹرک ملین مکعب فٹ اضافی قدرتی گیس دستیاب ہوئی تو لوڈ شیڈنگ نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔ حکومت پاکستان اس پلانٹ کے لئے مطلوبہ گیس کی فراہمی کی منظوری دے چکی ہے۔ لیکن خطرہ یہ ہے کہ جہاں پہلے کے پلانٹس کے لئے منظور شدہ 276  میٹرک ملین مکعب فٹ گیس کو یکطرفہ طور پر گھٹا کر کبھی 180  ، کبھی 150 ، اور کبھی تو محض 70-80  میٹرک ملین مکعب فٹ کردیا جاتا ہے وہاں نئے پلانٹ کے لئے منظور شدہ گیس بھی نہیں دی جائے گی۔ چنانچہ بجلی کی کمی کا معاملہ جوں کا توں رہے گا۔ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔
عام شہری جو تیل اور گیس کی قیمتوں کے فرق اور اس سے بجلی کے نرخ پر پڑنے والے اثرات سے کچھ زیادہ آشنا نہیں ہیں، انہیں گمراہ کرنے کے لئے بعض نادان دوست محض تنقید برائے تنقید کی خاطر یہ ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں کہ کے ای ایس سی کو اگر قدرتی گیس ضرورت کے مطابق نہیں ملتی تو اسے تیل سے اپنے پلانٹ چلانے چاہئیں اور اگر ایسا نہیں ہورہا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کمپنی تیل کی رقم بچانے کی خاطر بجلی پیدا نہیں کرتی۔ حالانکہ یہ نقاد حضرات اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایک طرف تو تیل اور گیس کی قیمت میں جو تین سے چار گنا کا فرق ہے وہ فرق کے ای ایس سی اپنی جیب سے ادا نہیں کرتی بلکہ یہ بوجھ صارفین پر پڑتا ہے۔ آسان الفاظ میں گیس کے ذریعے پیدا ہونے والے بجلی کے ایک یونٹ پر جو لاگت آتی ہے وہ تیل کے ذریعے پیدا ہونے والے یونٹ کی نسبت چار گنا کم ہے۔ جس کی بدولت بجلی کے نرخ اس سطح پر رکھے جاتے ہیں کہ عام صارف اسے برداشت کرسکے۔ اگر وہی یونٹ تیل سے پیدا کیا جائے تو لازماً بجلی کے نرخ میں چار گنا اضافہ ہوگا۔ لاگت میں یہ اضافہ کے ای ایس سی خود نہیں ادا کرے گی بلکہ صارفین کو ادا کرنا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ کے ای ایس سی پوری کوشش کرتی ہے کہ تیل کم سے کم جلایا جائے تاکہ نرخ اپنی سطح پر رہیں۔ لیکن نقاد حضرات بدستور یہی فرمائش کرتے رہتے ہیں کہ تیل استعمال کیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ نقاد حضرات کے ای ایس سی سے یہ مطالبہ کررہے ہوتے ہیں کہ صارفین کو چار گنا زیادہ نرخوں پر بجلی فروخت کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ اب ایسے نادان دوستوں کو کون سمجھائے کہ کرکٹ میچ ، عید اور یوم آزادی پر اگر کے ای ایس سی اضافی تیل جلا کر شہریوں کو ایک سہولت مہیا کرتی ہے تو اس کو سراہنے کے بجائے برا کہنا درست نہیں۔
کے ای ایس سی کے نادان دوستوں میں کچھ مہربان ایسے بھی ہیں جو ہمدردی اور سرپرستی کی آڑ میں اپنا اُلّو سیدھا کرنے میں مصروف ہیں۔ ایسے ہی کچھ مہربانوں نے ایک خود ساختہ شیئر ہولڈر ایسوسی ایشن بنا رکھی ہے ۔ جس کے ارکان کی تعداد نا معلوم ہے، اس کے عہدیدار کب منتخب ہوتے ہیں ، الیکشن کب ہوتے ہیں، کوئی نہیں جانتا۔ یہ مہربان چاہتے ہیں کہ کے ای ایس سی کی سپلائی اور مرمت کے کاموں کے ٹھیکے انہیں دیئے جائیں، نئے کنکشن ان کے حکم پر بانٹے جائیں، ان کے دوستوں عزیزوں کو بڑی بڑی تنخواہوں پر ملازم رکھا جائے اور کمپنی کا تمام عملہ ان کے سامنے ہاتھ باندھے ان کی نظر کرم کا منتظر رہے کیونکہ انہوں نے چند ہزار روپے کے شیئر خرید لئے ہیں ۔ جب ایسا نہیں ہوتا تو وہ الزامات اور ’’انکشافات‘‘ کا ایک بوسیدہ تھیلا بغل میں دبا کر میڈیا کے اداروں کا رخ کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی اخبار ان کے من گھڑت افسانے کا کوئی حصہ شائع کردے تو وہ اسے سند کے طور پر فریم کراکے پھر کے ای ایس سی کے دفتر پہنچ جاتے ہیں اور اہلکاروں پر دبائو ڈالتے ہیں کہ ان کی فرمائشیں پوری کی جائیں۔ سرکاری کنٹرول اگر مسائل کا حل ہوتا تو پی آئی اے، ریلوے، واپڈا اور ایسے تمام ادارے آج کامیاب نظر آتے۔ سب سڈی کی رقم کے ای ایس سی کو نہیں ملتی بلکہ یہ حکومت کی طرف سے بجلی کے نرخ کو کم رکھنے کے لئے دی جاتی ہے اور یہ رقم براہ راست صارفین کو جاتی ہے، اس سب سڈی کا ذکر توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔
کاپر وائر صرف کراچی میں استعمال ہوتی ہے باقی پورے ملک میں سلور وائر ہے۔ کاپر وائر پر کنڈ الگانا ممکن ہے اسی لئے اسے تبدیل کرنے کی مرحلہ وار کوشش کی جارہی ہے لیکن اس پر طرح طرح کے اعتراض کئے جارہے ہیں۔ جن علاقوں میں چوری زیادہ ہے وہاں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ تھوڑا سا زیادہ رکھا جاتا ہے تاکہ وہاں کے باشندے بجلی چوری روکنے کے لئے اپنا فرض یاد رکھیں، اس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یعنی بہتری لانے کی تمام تر کوششیں کی جارہی ہیں لیکن پیشہ ور مہر بان اور نادان دوست قسم کے افراد اس میں اپنا کردار ادا کرنے کے بجائے ذاتی مفاد ڈھونڈنے میں مصروف ہیں۔
چنانچہ صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف کے ای ایس سی کی پرائیویٹ انتظامیہ ہے جو نہ صرف کراچی کے شہریوں کی خدمت کے جذبے کے تحت بلکہ خود اپنی کاروباری کامیابی اور شہرت کی خاطر نقصانات سے تباہ حال اس کمپنی کو فعال اور منافع بخش بنانے کے لئے دن رات  جدو جہد کررہی ہے تو دوسری طرف مراعات حاصل کرنے کے عادی دوست نما دشمنوں اور نادان ہمدردوں کی جانب سے تنقید ، الزامات، فرمائشوں اور دبائو کا ایک انبار ہے جو نہ صرف اس کمپنی کو کام کرنے کے پر امن ماحول کی فراہمی میں رکاوٹ بن رہا ہے بلکہ خود شہریوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کا ہدف حاصل کرنے میں بھی تاخیر پیدا کررہا ہے۔کے ای ایس سی کی کامیابی محض ایک کمپنی کی نہیں بلکہ کراچی کے تمام شہریوںکی ترجیح ہونی چاہئے۔ معاشرے کے تمام حصوں کو بلا امتیاز مل بیٹھ کر ان تمام مسائل کا حل نکالنا ہوگا۔ محض الزام تراشی اور یکطرفہ بیانات دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ کامیابی اچانک اور راتوں رات نہیں ملتی بلکہ اس کے لئے مسلسل اور انتھک محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔

Tuesday, 3 January 2012

مصنوعی و مصنوعاتی۔ بہتان تراشی و افواہ بازی

مصنوعی و مصنوعاتی۔ بہتان تراشی و افواہ بازی

تحریر :  مسعود نبی خان









مصنوعات کے متعلق بہتان تراشی اور افواہ بازی اب شیوہ بنتاجا رہا ہے ،جو مقامی اور بین الاقوامی دنوں ہی مارکیٹوں میں پھیل رہا ہے،جھوٹ و افترا کا سہارہ لیکرایک منصوبے کے تحت باقاعدہ ہدف بنا کر عوامی آراء کو تبدیل کرنے کا چلن چل نکلا ہے، ان اہداف میں خصوصاًمشہور مصنوعات بنانے والی مختلف کارپوریشنز کی کارکردگی اور مالیاتی معاملات ہوتے ہیں، اس کے علاوہ سیاسی بازی گر اپنے مفاد کے لئے مذہبی و سیاسی افواہوں کا بازار گرم کرتے ہیں جسکا ھدف بھی عموماً مشہور مصنوعات میں سے کوئی ہوتا ہے تاکہ اس کی عوامی مقبولیت کو کم کرکے اسے نقصان پہنچایا جاسکے۔
اس کا عمومی طریقہء کار تو یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی مشہور برانڈ کے متعلق توھین آمیز افواہ پھیلائی جاتی ہے ۔ جتنا بڑا برانڈ ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ افواہ میں شدت ہوتی ہے ۔ ان افترا بازیوں میں اپنے غیر قانونی اہداف کے حصول کے لئے رابطے کا ہر ذریعہ استعمال کیا جاتا ہے، اس کی آسان مثال ٹیکسٹ میسیجز کی ہے جو انفرادی طور پر بے شمار افراد کو بھیجے جاتے ہیں اور ان کی کثرت سے یہ یقین ہوتاہے کہ یہ پیغامات یا تو موبائل کمپنی نے بھیجے ہیں یاپھرکسی دوسرے بہت ہی مستندذریعے سے بھیجے گئے ہیں ،ایسے پیغامات نہ صرف یہ کہ عالمی طور پر ان موبائل کمپنیوں کا امیج خراب کرتے ہیں بلکہ ان برانڈڈ مصنوعات کی کارپوریشنز کو بھی شدید دھچکہ لگاتے ہیں جو دراصل نشانہ ہوتی ھیں۔ 
مثال کے طور پر انڈونیشیا کو ہی لیجئے جہاں ساحلی علاقوں کے رہنے والے بے شمار افراد کو ایک خلیجی اخبار کے حوالے سے پیغام بھیجے گئے کہ سونامی آنے والا ہے ، اب ظاہر ہے اس پیغام سے اس علاقے میں بلا وجہ کی افرا تفری پھیل گئی ، علاقے کے محکمہ ء موسمیات نے کہا کہ یہ وارننگ  یا انتباہ ان کی جانب سے نہیں بھیجا گیا ہے ’، محمکہء موسمیات اور جیو فزیکل ایجنسی کوپانگ انڈونیشیا کے سر براہ ریوائی مارولاک کا کہنا تھا کہ ’ زلزلہ یا سونامی کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں ہوسکتی لہذہ ہم ایسا میسیج بھی نہیں بھیج سکتے‘‘  ، لیکن بہر حال پھر بھی بہت سے افراد نے اپنے ساحلی گھروں میں اس خدشے کے تحت واپس جانے سے انکار کردیا کہ اگر یہ خبر سچی نکلی تو۔
پاکستان بھی اس وباء سے متاثر ہے پچھلے ہی سال کے جھوٹے ایس ایم ایس  کے طوفان پر نظر ڈالیں ، جس میں یہ پیغام عام کیا گیا تھا کہ اگر موبائل فون استعمال کیا تو ایک جان لیوا خطرناک وائرس اس کے استعمال کنندہ کو لگ جائے گا، اور استعمال کنندہ کی موت واقع ہوجائے گی، جسکی وجہ سے پاکستان میں موبائل کمپنیوں کے دفاتر میں کالوں کا تانتا بندھ گیا تھا ، اب ظاہر ہے یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح ہر جگہ پھیل گئی  اور بڑے شہروں کو خصوصاً اس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، کراچی جیسے شہر میں یہ اعلان ہوئے کہ لوگ موبائل فون کے استعمال سے مررہے ہیں اور لوگ اسے قہر خداوندی سمجھ کر خوفزدہ ہوگئے، ملک کے نشریاتی اداروں نے بھی ایسی خبریں نشر کرکے گویا اس خبر پر مہر تصدیق ثبت کردی، موبائل سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں جو اس منصوبے کا نشانہ تھیں وہ براہ راست اس خبر سے متاثر ہوئیں۔ ایک جھوٹی خبر نے سیکنڈوں میں پھیل کر بے شمار لوگوں پر اثر کیا جس کا الٹا ہی اثر ہوا۔
ایک مشہور سیل فون کمپنی کے ٹیلی کام آپریٹر کا کہنا ہے کہ ایسی مصیبتوں سے اسوقت تک نہیں نمٹا جاسکتا جب تک اس کے خلاف کوئی قانون نہیں وضع کیا جاتا جسکے تحت غیررجسٹرڈ SIM کے استعمال پر پابندی ہو اس کے ساتھ ہی SIM کارڈز کے غلط استعمال پر ایک واضح قانون وقت کی اہم ضرورت ہے، جسکے لئے اب تک سوائے اس کے کوئی دیگر قانون نہیں ہے کہ SIM کارڈ کو بلاک کردیا جائے، لیکن بآسانی اور سستی سیلولر سروسز کی دستیابی نے اس ایکشن کو بھی بے اثر بنا کر رکھا ہوا ہے۔
غلط اطلاع چاہے ای۔میل کے ذریعے ہو ،ٹیکسٹ میسیج کے ذریعے یا زبانی لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ یہ آبادی کے ایک بڑے طبقے کو گمراہ کردیتی ہے۔ یہ بہت ضروری ہے ان خرافات سے نمٹنے کے لئے مختلف طریقہء کار اپنانے چاہیئں۔نئے میڈیا کی اہمیت پر زور دیا جانا چاہئیے جیسے کہ مائی اسپیس اور فیس بک ، افواہوں کے بحرانوں کی کیفیت ویب کے ذریعے بھی پھیلتی ہے ، لہذہ اس امر کی شدت سے ضرورت ہے کہ نئے میڈیا کو فروغ دیا جائے جو ایسے بحرانوں کا بآسانی مقابلہ کرسکتا ہے، ہم سب ہی جانتے ہیں کہ انٹر نیٹ رابطے کا ایک انتہائی مؤثر اور معتبر ذریعہ ہے۔
کارپوریشنز اب اپنے صارفین تک رسائی کے لئے مکمل طور پر ٹیلی وژن نشریات یا پرنٹ میڈیا کی نہ صرف ایڈورٹائزنگ کا بلکہ ایسے بحرانوں سے نمٹنے کے لئے سہارہ نہیں لے سکتیں۔کارپوریشنز کو اپنے صارفین تک رسائی کے لئے وقت کی اہم ضرورت ای۔میل، ویب سائٹس، پوڈکاسٹس اور دیگر کا سہارہ لینا پڑے گا۔
     ٭٭٭٭٭

اپنے پیروں پر کلہاڑی


اپنے پیروں پر کلہاڑی
بحیثیت ایک پاکستانی ہم اپنے ملک کی اقوام عالم میں حیثیت اور عالم اسلام میں اس کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں
اور ہماری ترقی میں ہی اُمّہ کی ترقی پوشیدہ ہے اور یہ بات 
روز روشن کی طرح سب پر عیاں ہے


تحریر :۔  مسعود نبی خان











مشاہرین تحریک پاکستان کے قلوب میں اس خطے کے مسلمانوں کو اتنا درد بسا ہوا تھا کہ انہوں نے مسلمانان برصغیر کی تہذیبی و تعلیمی تمدن کی خاطر اپنا سب کچھ دائو پر لگا دیا ، جیسے کہ سر سید احمد خان ، ان کی اس خطے کے مسلمانوں کے لئے خدمات کا فی زمانہ کون معترف نہیں ہے مگر ایک زمانہ تھا کہ ان کی تحریروں سے علماء کو الحاد کی بو آتی تھی اور انہیں فرنگیوں کا ایجنٹ سمجھ کر کافر تک قرار دے دیا گیا تھا، مگر انہوں نے مسلمانان پاک و ہند کی تہذیبی او رتعلیمی ارتقاء کے لئے اپنا مشن جاری رکھا اور مسلمانوں میں وہ شعور اجاگر کیا جس کی اس وقت شدید ضرورت تھی۔ سر سید احمد خان اپنی ایک تحریر میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’’ حکومت چاہے کیسی بھی ہو عوام کوباشعور ہونا چاہیئے تو ہر طرح کی حکومت بالکل صحیح چلے گی ، حکومت اگر خراب ہو اور عوام باشعو ر تو وہ حکومت کو صحیح راستے پر لے آئیں گے ، مگر عوام کے بے شعور ہونے کی صورت میں حکومت چاہے کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو عوام اسے گھسیٹ کر نیچے اپنے معیار تک لے آئیں گے‘‘۔
سر سید کے افکار کی ہمیں اپنی نجی زندگیوں میں نفاذ کی آج بھی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی کہ پہلے تھی بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ آج ہمیں ان کی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ من حیث القوم اب ہم ایک آزاد قوم ہیں اور اپنے اچھے برے کے اب خود ذمہ دار ہیں ، ہم اپنی کسی بھی کوتاہی کا ذمہ دار کسی دوسرے کو نہیں ٹہرا سکتے ، اور جب ہم ایسا نہیں کرسکتے، تو اپنے کسی بھی عمل سے اگر ہمیں فوراً یا دوررس نقصانات کا اندیشہ ہو تو ہمیں ایسے اقدامات نہیں کرنے چاہئیں ورنہ ہم آنے والی نسلوں کو کیا منہ دکھائیں گے؟، یا وہ ہمیں کس طرح یاد رکھیں یہ اب ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے ،ہم ایسے علماء کی طرح کیوں بنیں جنہوں نے جذبات میں بہہ کر قوم کو ترقی کا صحیح راستہ دکھانے والوں کی راہوں میں کانٹے بچھائے آج وہ علماء یا ان کا نام بھی تاریخ میں نہیں ہے مگر قوم کے ان مصلح افراد کا نام آج بھی تاریخ میں جگمگا رہا ہے جنہوں نے قوم کو اعتدال پسندی اور تعلیمی و تہذیبی تمدن سے آشنا کیا ۔
بحیثیت ایک پاکستانی ہم اپنے ملک کی اقوام عالم میں حیثیت اور عالم اسلام میں اس کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں ، ہماری ترقی میں ہی اُمّہ کی ترقی پوشیدہ ہے اور یہ بات روز روشن کی طرح سب پر عیاں ہے، ہماری آزادی کو ساٹھ سال سے زائد عرصہ گذر چکا ہے  مگر ہم نے بحیثیت ایک قوم اتنی معاشی ترقی نہیں کی جتنی کہ کر لینی چاہیئے تھی اور اس کی وجہ بھی ہم سب ہی جانتے ہیں کہ اس میں قصور صرف ہماری غیردانشمندی کا رہا ہے، عصر حاضر بھی ہم سے اسی بات کا متقاضی ہے کہ ہم اپنے جذبات اور احساسات کے اظہار میں اعتدال سے کام لیں اورہرگز بھی کوئی ایسا عمل نہ کریں جو ہماری معاشیات اور اقتصادیات پر ضرب کاری کا باعث ہو اور ہمیں ترقی کے عمل سے کئی دہائیاں پیچھے پھینک دے ۔
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اقوام عالم میں ترقی کا معیار بدل گیا ہے جو ریاست اب جتنی اقتصادی طور پر طاقتور ہوگی وہ اتنی ہی کامیاب اور دنیا پر راج کرنے والی ہوگی ، اور اقتصادی ترقی کے لئے امن عامہ ایک بنیادی ضرورت ہے جس کے لئے قوم کا معتدل مزاج ہونا انتہائی ضروری ہے ، آتش مزاج لوگ جس طرح معاشرے کے نا پسندیدہ ہوتے ہیں اور لوگ ایسے غضبناک اور غصہ ور افراد سے میل جول اور روابط رکھنا پسند نہیں کرتے ، اسی طرح اقوام عالم بھی اب کسی آتش مزاج قوم سے روابط رکھنا پسند نہیں کرتیں ، اور اب جبکہ دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے معاشی ترقی باہمی روابط سے ہی ممکن ہے ۔
پچھلے دنو ں اسرائیل نے فلسطینیوں کے علاقے غزہ پر حملے کئے ، کون سا ایسا انسان تھا جس کے دل میں غزہ کے رہائشیوں کے لئے ہمدردی کے جذبات نہیں ہوں گے، مگر کسی نے بھی اس غصّہ کے عالم میں اپنے قومی ورثہ اور املاک کو نقصان نہیں پہنچایا ، اور نہ ہی  کوئی ایسا عمل کیا جس سے اس کی معاشی ترقی کو ٹھیس پہنچے ، بحیثیت ایک قوم کے ہم بھی اللہ کا شکر ہے کہ تمدنی ارتقاء کی اس منزل پر پہنچ چکے ہیں کہ اس قسم کی صورتحال میں بالغ نظری کا ثبوت دیتے ہیں مگر ہم ہی میں سے چند عناصر ایسے ہیں جن کی اصلاح کی ضرورت ہنوز باقی ہے ، ایسے افراد اور  گروہ اپنے جذبات و احساسات پر کسی قسم کا کوئی کنٹرول نہیں رکھتے اور اپنے قول و عمل سے مسلسل ناسمجھی کا مظاہرہ کرکے پوری قوم کے لئے مشکلات کا سبب بنتے ہیں ،ایسے افراد دنیا میں ہوئے کسی بھی واقعے کو بنیاد بنا کر اپنے مخصوص فائدے کے لئے پوری قوم کے مستقبل سے کھیلنے میں دیر نہیں لگاتے اور جذباتی نعروں اور اقدامات سے ملک و قوم کے لئے ضرر رسانی کا ذریعہ بنتے ہیں اسرائیل کے فلسطینی بھائیوں سے حالیہ تنازعے میں بھی ایسے عناصر نے اپنا کھیل کھیلنا شرو ع کردیا ، اور پوری شد و مد سے ایسی حرکتیں شروع کردیں جن سے فوری اور دوررس دونوں ہی قسم کے منفی نتائج آنا شروع ہوگئے ، گویا اپنے پیروں پر خود ہی کلہاڑی مارنے کے مترادف کام کیا گیا ۔
جیسا کہ ہم سب ہی جانتے ہیں کہ اب وہ زمانہ نہیں ہے کہ کسی قوم کو زیر کرنے کے لئے میدان جنگ کا سہارہ  لیا جائے بلکہ آج کل اقتصادی طور پر جس قوم کو پیچھے دھکیل دیا جائے وہ زیر ہوجاتی ہے ، ان مذکورہ عناصر کی وجہ سے ہمارے ملک میں ایک تو ویسے ہی بیرونی سرمایہ کاری بہت کم آتی ہے کیونکہ دنیا یہ سمجھتی ہے کہ ہمارے ملک میں صنعتی امن بہت کم ہے اور اس پر بھی اگر کوئی بین الاقوامی کمپنی ہمارے ملک میں سرمایہ کاری کربیٹھتی ہے تو یہ ناسمجھ عناصر فوراً ہی اس پر کوئی سامراجی یا صیہونی ہونے کا لیبل چپکا کر اسے یہاں سے اپنا بوریا بستر گول کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں ، افسوس ہوتا ہے ایسے افراد پر کہ جس ڈال پر بیٹھتے ہیں اسے ہی کاٹ کر پھینکنے کے درپے ہوتے ہیں ، سوچنے کا مقام ہے کہ ان سرمایہ کار بین الاقوامی کمپنیوں کو ہمارے ملک میں  کوئی ہیرے جواہر لگے ہوئے یا لعل ٹکے ہوئے نظر نہیں آتے ہیں ، ان کو حکومتیں بڑی منت سماجت کے بعد اپنے ملک میں سرمایہ کاری پر راضی کرتی ہیں تاکہ اپنے ملک کی اقتصادیات کے ساتھ ساتھ اپنی قوم کا معیار زندگی بلند کرسکیں اور ملک میں پیدا کی ہوئی چیزوں سے نہ صرف زر مبادلہ بچائیں بلکہ ان نت نئی فیکٹریوں سے روز گار کے زیادہ سے زیادہ مواقع  پیدا کرسکیں ، ورنہ دنیا میں ہمارے علاوہ دیگر ایسے ممالک کی کمی نہیں ہے جہاں ہم سے بھی بہت زیادہ سستی لیبر موجود ہے ، اور جہاں ہمارے ملک کی نسبت بہت زیادہ صنعتی و تجارتی امن ہے، نہ وہاں کے لوگ  ذرا ذراسی بات پر چراغ پا ہوکراپنے ملک کی تنصیبات کو نقصان پہنچاتے ہیں اور نہ اپنے ملک میں بنی کسی چیز پر صیہونی یا سامراجی کا ٹھپہ لگا کر اس کا بائیکاٹ کرتے ہیں، پھر بھلا ایسی صورتحال میں بڑی بڑی سرمایہ کار کمپنیاں بجائے ہمارے ملک کے ان ممالک میں سرمایہ کاری کیوں نہ کریں ۔
قسمت کی یاوری یا ہماری پچھلی کئی حکومتوں کی بالغ نظری کہ انہوں نے ملک میں اقتصادی ترقی کے لئے بہترین کام کرکے ، دنیا کی کئی بڑی بڑی سرمایہ کار کمپنیوں کو اپنے ملک میں سرمایہ کاری پر راضی کیا ، اب یہ ہمارا فرض بنتا ہے اپنے ملک میں کام کرنے والی ان کمپنیوں کو بھر پور طریقے سے کام کرنے دیں جو درحقیقت ہماری اپنی ہی فلاح اور اقتصادی ترقی کا راستہ ہے، ساتھ ہی ساتھ ہمیں چاہیئے کہ اپنے ہی ملک میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کی مصنوعات کا بائیکا ٹ کرنے اور ان پر صیہونی و سامراجی لیبل چسپاں کرنے والے عناصر سے کہیں کہ وہ کس منہ سے بائیکا ٹ کی بات کرتے ہیں ، جہاں جہاں ان کے سیاسی  یا سستی شہرت حاصل کرنے کے مواقع ہوتے ہیں وہ ایسی باتیں کرتے ہیں اگر اپنے ملک میں بنی اشیاء صیہونی و سامراجی ہوسکتی ہیں تو پاکستان کو اپنے ایٹمی پروگرام سے دستبردار ہوجانا چاہیئے کہ یہ ایک صیہونی شخص کی ایجاد اور سامراجی ملک کی پیداوار ہے، مواصلات چاہے ٹیلیفون، موبائل، کاروںیا جہازوں کی ہو یا پھر ریڈیو ،ٹی وی یا سیٹلائٹ ٹی وی کی سب سے دست برداری حاصل کرلی جائے کیونکہ ان تمام سہولیات کو فراہم کرنے والی کمپنیاں ہمارے ملک میں بھی صیہونی و سامراجی  پس منظر رکھتی ہیںہمارے پہننے والے کپڑے جن جدید مشینوں پر بنتے ہیں وہ سامراج کی ایجاد ہیں اور ہماری مسجدوں میں بچھے ہوئے قالین، چلتے ہوئے پنکھے اور اے سی سمیت اذان کے لئے استعمال کئے جانے والے لائوڈ اسپیکرز کی ٹیکنالوجی بھی صیہونی و سامراجی ہے، ہر چھپے ہوئے قرآن کی چھپائی کی ٹیکنالوجی صیہونی و سامراجی ہے ۔ کیا ان تمام چیزوں کو جو پاکستانی اپنی محنت سے بناتے ہیں صرف کمپنیوں کے صیہونی و سامراجی پس منظر کی بناء پر متروک کیا جا سکتا ہے، بچوں کے دودھ سے لیکر گھر میں استعمال ہونے والی ہر جدید شئے کی ٹیکنالوجی سمیت ہمارے اپنے کھانے کے لئے آنے والی غیر ملکی گندم اگر صہیونی و سامراجی ہو سکتی ہے تو ایسے تمام عناصر کو ان کا بھی بائیکاٹ کرنا چاہیئے اور اسلام کا نام لیکر دہشت گردی میں مبتلا تمام لوگوں کو صیہونی و سامراجی ٹیکنالوجی پر بنے ہر قسم کے اسلحے کو ترک کردینا چاہیئے ۔
ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیئے کہ ایسے عناصر دراصل ہم کو پستی کی طرف دھکیلنے کا کام کررہے ہیں ، اسلام اور مسلمانوں کی ہمدردی کا ڈھونگ رچا کر یہ دماغی طور پر مفلوک الحال افراداپنے دنیاوی فوائد کے لئے سستی شہرت کا حصول چاہتے ہیں چاہے اس کے عوض پوری قوم کو قربانی کا بکرا کیوں نہ بنانا پڑے ۔ ہمیں چاہیئے کہ ایسے افراد کے منہ پر ان سے کہہ دیں کہ کبھی خود پر غور کیا ہے تمارے بچپن سے تمہاری اور تمہارے بچوں کی جان بچانے والے ٹیکوں سمیت میڈیکل سائنس کی ہر ترقی صیہونی و سامراجی پیداوا ر ہے پہلے ان سب کو اپنے اپنی زندگیوں کے خاتمے سے ختم کرو ، پھرتم اپنے ملک اور اپنی قوم کی محنت پر انگلی اٹھانا کہ اس کی ٹیکنالوجی یا اس کی کمپنی صیہونی اور سامراجی ہے اور تم اس کا بائیکاٹ کرتے ہو۔

Saturday, 31 December 2011

کامیاب اداروں کی اقدار


کامیاب اداروں کی اقدار

اس میں کوئی شک نہیں کہ اعلیٰ کارکردگی اور اچھی شہرت کے حامل کاروبار  کے برانڈز بھی عموماً اعلیٰ اور معیاری ہی ہوتے ہیں ، جس میں پراڈکٹس، سروسز، کمیونیکیشن، لب و لہجہ، ڈیجیٹل ، ریٹیل کے معیار کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ جن کا مقصد اور تصور بھی تقریباً یکساں ہوتا ہے ۔ہاں ایک بات جو اس سلسلسے میں اکثر نظر انداز کردی جاتی ہے وہ ہے ادارے کی کارکردگی جو کسی صارف کو اقدار ثقافت اور رویئے کے ذریعئے زندگی عطا کرتی ہے۔ اور صارفین کے بارے میں تجربات کو تقویت دیتے ہوئے انہیں ایک ایسے مسلسل ، منفرد اور متعلقہ برانڈ سے روشناس کراتی ہے جو ان کی جانب سے فراہم کی جانے والی بنیادی مصنوعات کا اہم ترین جزو ہوتی ہے۔



لہذا ہمیں دیکھنا ہے کہ وہ کیا مشکلات ہیں جو کاروبار میں تبدیلی کے لئے اندرونی و بیرونی طور پر کسی کاروبار میں اقدار کی تخلیق کے ضمن میں پیش آسکتی ہیں۔
اوّل، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کمپنی کے تصورات کی تبدیلی لوگوں کے ایک چھوٹے سے گروپ تک ہی محدود رہتی ہے ، جن میں عموماً ادارے کے سینئر حکام ہی ہوتے ہیں، جو کمپنی کی حقیقی کارکردگی اور صارفین سے رابطے کے سلسلے میںعموماً کچھ فاصلے پر ہی ہوتے ہیں اوران دونوں میں ان کا کردار صرف ہدایات تک محدود ہوتا ہے ۔ لہذہ حقیقی تبدیلی اسی وقت آتی ہے جب ادارے کا ہر کارکن تبدیلی کے لئے پر عزم ہو اور اپنے برانڈ کی بہتری کے عزم پر کاربند ہو۔



دوئم ،  ملازمین اکثر مختلف طبقہء زندگی اور مختلف ثقافتی پس منظر اور عقائد سے تعلق رکھتے ہیں ، لہذہ ایک مشکل یہ بھی ہوتی ہے کہ ان سب علیحدہ علیحدہ طبقہء فکر و زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک ہی مقصد کے لئے ذہنی طور پر یکجا کرنا تاکہ وہ اپنے روز مرہ کے فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنے برانڈ کی ترویج کا باعث بنیں ۔ اگر ان کی صحیح طریقے سے رہنمائی کی جائے تو تمام کارکنان کام کے صحیح اور ہر لحاظ سے سود مند طریقہء کار کو اپنائیں گے، جس میںصارفین کو فراہم کی جانے والی خدمات  پر توجہ کے ارتکاز میں واضح فرق محسوس کیا جاسکتا ہے، جس کی وجہ سے صارفین کا بھی برانڈ سے لگائو حقیقی ہوجاتا ہے کیونکہ خدات کی اس طرح فراہمی سے  صارفین کو  بھی برانڈ پراطمینان کی حد تک اعتمادبخشتا ہوجاتا ہے۔



سوئم ،  جبکہ دوسری جانب صارفین کی معلومات کا دائرہ مسلسل وسیع ہورہا ہے اور وہ اچھے برے برانڈ میں فرق کو واضح طور پر سمجھتے ہیں اس کی بنیادی وجہ ان کی معلومات میں انٹر نیٹ کے ذریعے سے ہونے والا انقلابی اضافہ ہے، اس کے علاوہ  عوام الناس کی عمومی اعلیٰ تعلیمی استعداد میں اضافہ ہے ، اوراس وجہ سے ان کی جانب سے برانڈ ز کی جانب سے پیش کردہ سہولیات اور خدمات میں بین الاقوامی معیار کی توقعات ہیں۔ کمپنیوں کو اپنے صارفین سے ملاقات اور بات چیت یعنی ہر طریقے سے رابطہ رکھنا چاہئے بصورت دیگر ان کی مصنوعات و خدمات کے صارفین کے درمیان غیر مقبول ہونے کا شدید خطرہ رہتا ہے۔ فی زمانہ صارفین برابری کی بنیاد پر مصنوعات کی مسابقت میں خدمات کی زیادہ سے زیادہ فراہمی کی توقع رکھتے ہیں  جیسے کہ موبائل ٹیلی کام سیکٹر۔اس ضمن میں میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہے کہ وہ اطلاعات کی وصولی پر فوراً ہی صارفین کے نکتہء نظر کی تبدیلی کا اہم سبب بنتے ہیں۔



کمپنی کس طرح کارکنان کی اقدار کو ترتیب دے کہ وہ بہتر تبدیلی کا سبب بنیں ؟
کمپنیوں کو اپنے تصور کے حساب سے اپنے کارکنان کا دل و دماغ جیت لینا چاہئے  (یعنی کمپنیوں کو یہ سمجھ بوجھ ہونی چاہئے کہ وہ کس طرح اپنی حکمت عملی ترتیب دیں) یعنی بزنس میں بہتر بنیادی تبدیلی کے لئے تمام کارکنان کو پوری محنت اور سچی لگن سے کام کرنا ہوتا ہے اور اسی لئے ان کی بہتر تربیت کرنی ہوتی ہے تاکہ اس کے نتائج خود بزنس اور صارفین کے لئے بہترین ہوں۔
ملازمین کو اس ضمن میں تربیت دینی چاہئیں اور ان کے عملی نفاذ پر ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے، یہ طریقہء کار ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ ادارے کے حکام بالا سے احکامات ملازمین تک آگئے ، بلکہ اس کے لئے باقاعدہ ہر ڈپارٹمنٹ میں ایک ایسا سینئر ملازم ان احکامات کے نفاذ کو ممکن بنائے جو ان کے صحیح طریقے سے نفاذ کا طریقہ جانتا ہو۔ ملازمین کام پر اسی طرح آئیں جیسے وہ اپنی ذاتی زندگی کا کوئی کام انجام دینے آرہے ہوں جیسا کہ دنیا کے بیشتر خطوں میں ہوتا ہے کہ لوگوں کا معاش ان کی ذاتی زندگی اور معاشرے میں اسی طرح ان کی پہچان ہوتا ہے جیسے کہ ان کی فیملی یا ان کا گھر، اور وہ کام کی جگہ پر بھی اپنی زندگی کی قدروں کا خیال رکھتے نظر آتے ہیں۔
اقدار و ثقافت کے کے ذریعے بزنسز کے بہتر کارکردگی میں ڈھلنے کی مثالیں 21  ویں صدی میں ذرا کم ہی ملیں گی اور ان کا بیان کرنا بھی ذرا مشکل ہی ہوگا مگر ایسا اب بھی ہوتا ہے ۔ ایسی ہی ایک مثال ایک ایسے برانڈ کی ہے جو پہلے ہی دن سے اپنی ثقافت اور اقدار کی مسلسل ترویج میں کامیاب ہے اور وہ ہے (متحدہ عرب امارات کی )  امارات ائیر لائن کی ، جہاں ملازمین کو اپنے برانڈ کی ہی سمت میں سوچنے اور اس کے مطابق کام کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ وہ سب روبوٹ نہیں ہیں مگر وہ سب آپس میں مشترکہ اقدارمیں 
 کے شریک ہیں، دیگر ائیر لائنوں کے بر عکس امارات ائیر لائن کے عملے کی اس بات پر حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ذاتی کپڑے پہنیں ، اس طرح وہ زیاد ہ قابل رسائی اور زیادہ معلومات فراہم کرنے والے دوست کی حیثیت میں   
نظر آتے ہیں۔
روائتی طور پر بزنسز میں اقدار اور رویوں کی تبدیلی کافی مشکل امر ہوتا ہے
 کیونکہ اس میں افسر شاہی کی من مانیاں اور رکاوٹیں، صارفین پر مکمل توجہ کا فقدان، مسابقت اور ادارے کو مجموعی طور پر اپنائے جانے کی کمی شامل ہوتی ہے اس طرح جو چیز زیادہ منظر پر آتی ہے وہ صارفین کو خدمات میں کمزوری اور کمی، کارکردگی میں کمی، کام کی نوعیت کے حساب سے اہل افراد کی تعیناتی کی کمی، اس کے علاوہ دیگر عمومی امور میں بنیادی خرابیاں ہوتی ہیں اور انہیں دیکھ کر دیگر اسٹیک ہولڈرز خاص کر میڈیا حملہ کردیتے ہیں۔ایسے بزنسز میں عموماً کارکنان کی بڑی تعداد خدمات انجام دیتی ہے ، اور اسی لئے کام کی صحیح درجہ بندی اور کارکردگی کا اسراع حاصل کرنا ذرا مشکل ہوتا ہے ، کیونکہ یہ انسانی فطرت ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہم مرتبہ لوگوں کے ہمراہ یکساں خطوط پر کام کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
برانڈ کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے اور مقبول بنانے کے لئے تصور اور اقدار کی نئی توجیہات کا شکریہ ، کہ جس کے تحت براہ راست اسٹاف کی کارکردگی کو تقویت دینے کے لئے ایک باقاعدہ الگ پروگرام چلایا جاتا ہے ، جبکہ ایک نئے اور بیرونی برانڈ کے لئے (شناخت، نام، تشہیر) کا پروگرام ضروری ہوتا ہے ، جیسا کہ خدمات فراہم کرنے ادارے کی جانب سے نئی خدمات کی فراہمی کسٹمر سروس کے معیار کو مزید بلند کرتی ہے۔
لہذا معلوم ہوا کہ اکثر کامیاب اداروں کے پیچھے ان کی معاشرتی اور ثقافتی اقدار کا بہت بڑا عمل دخل ہوتا ہے آپ جتنا زیادہ صارف کے انداز میں اس سے گفتگو کریں گے ، جتنا زیادہ اسکی ثقافت اسکے اورھنے پہنیے کے انداز اسکے رہن سہن کے ماحول اسکی زبان کو اپنائیں گے صارف اتنی ہی برق رفتاری سے آپکو اپنا جان کر آپکی جانب کھنچا چلا آئے گا مثلاً ایک یونی فارم والے شخص کی نسبت کوئی شخص ایک عام آدمی سے کسی مسئلہ پر گفتگو یا معلومات لینا زیادہ پسند کریگا جو کہ اسکے ہی لب لہجے و لباس مین ہوگا۔ ثابت ہوا کہ اداروں کی کامیابی کے راز میں جہاں دیگر عوامل شامل ہیں وہاں معاشرتی ثقافت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

Wednesday, 21 December 2011

دھوپ سے چکن پاکس میں کمی

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ لاکڑا کاکڑا یا چکن پاکس کا پھیلاؤ دھوپ لگنے سے کم ہوجاتا ہے۔
جرنل ورولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ میں لندن یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے کا کہنا ہے کہ چکن پاکس ان خطوں میں اتنا عام نہیں ہے جہاں سورج کی شعاعیں زیادہ ہوتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سورج کی روشنی جلد پر چکن پاکس کے وائرس کو غیرمتحرک کردیتی ہے جس کے بعد وائرس کے لیے دوسروں 
تک منتقل ہونا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔
لیکن دوسرے طبی ماہرین کہتے ہیں کہ چکن پاکس کے پھیلاؤ کی 
روک تھام میں صرف سورج کی روشنی ہی نہیں بلکہ دوسرے عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہے مثلاً درجہ حرارت، ہوا میں نمی کی شرح اور رہائش کی جگہ اور ماحول وغیرہ۔
چکن پاکس کا سبب بننے والا وائرس ’ویریسیلا زوسٹر‘ بہت تیزی سے پھیلتا ہے۔ یہ وائرس مریض کے کھانسنے اور چھینکوں سے دوسروں کو لگ سکتا ہے لیکن اس کے پھیلنے کا اصل سبب چکن پاکس کے دانے ہوتے ہیں جن کا لمس دوسروں کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔
یہ پہلے سے معلوم ہے کہ دھوپ میں الٹرا وئلٹ شعاعیں وائرس کو غیر متحرک کردیتی ہیں۔ تحقیق کے سربراہ اور سینٹ جارج میں لندن یونیورسٹی کے ڈاکٹر فِل رائس کو یقین ہے کہ اصل وجہ یہ ہی ہے کہ ایسے خطوں میں جہاں دھوپ کم ہوتی ہے چکن پاکس کے وائرس تیزی سے پھیلتے ہیں۔
ان کے بقول برطانیہ جیسے ممالک جہاں سردیوں میں سورج کی شعاعیں انتہائی کم ہوتی ہیں چکن پاکس کے پھیلنے کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
یونیورسٹی کالج لندن کی پروفیسر جُوڈی بریور کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ سورج کی شعاعیں وائرس کو محدود رکھنے میں کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان وائرس کے پھیلاؤ میں دیگر عوامل کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا ’الٹرا وائلٹ کے علاوہ بھی کئی چیزیں ہیں جیسے حرارت، نمی، معاشی عوامل اور لوگوں کا رش
ان کے بقول ’یہ بہت ممکن ہے کہ الٹرا وائلٹ کِرنوں کا بہت اثر ہوتا ہو لیکن ہمارے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے جس سے ثابت ہو کہ اس کا کتنا اثر ہوتا ہے۔